پیر، 13 مئی، 2019

خزاں میں سوکھے پتے آنسوؤ ں کےمانند رخسارِ شجر سے ٹپک رہے ہیں ۔ پھر بھی حمد و شکرانے کے مقدس گیت درختوں کے پُر عزم لبوں سے جاری ہیں ۔ کب کوئی شجر خزاں میں چھاؤں کے خلق کو پسِ پشت ڈالتا ہے ۔ کب بہار بےوضو پاتی ہے سرما کی اُوس میں غسلِ صحت کرنے والے اَشجار کو ۔ اور کیا گلوں نے انفاقِ مہک و رنگ میں کبھی کمی کی ہے ۔ کب تحلیل ہوکر درخت کی جڑوں میں مسکُراتے بیج نے یقینِ بہارِ نو کا دامن چھوڑا ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Rationality for Pakistan: موسم بہار تو اس تگ و دو میں گزر گیا کہ کیا تم ہو ۔...

Rationality for Pakistan: موسم بہار تو اس تگ و دو میں گزر گیا کہ کیا تم ہو ۔... : موسم بہار تو اس تگ و دو میں گزر گیا کہ کیا تم ہو ۔ تم کہاں...