خزاں میں سوکھے پتے آنسوؤ ں کےمانند رخسارِ شجر سے ٹپک رہے
ہیں ۔ پھر بھی حمد و شکرانے کے مقدس گیت درختوں کے پُر عزم لبوں سے جاری ہیں ۔ کب
کوئی شجر خزاں میں چھاؤں کے خلق کو پسِ پشت ڈالتا ہے ۔ کب بہار بےوضو پاتی ہے سرما
کی اُوس میں غسلِ صحت کرنے والے اَشجار کو ۔ اور کیا گلوں نے انفاقِ مہک و رنگ میں
کبھی کمی کی ہے ۔ کب تحلیل ہوکر درخت کی جڑوں میں مسکُراتے بیج نے یقینِ بہارِ نو
کا دامن چھوڑا ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں