خزاں میں سوکھے پتے آنسوؤ ں کےمانند رخسارِ شجر سے ٹپک رہے
ہیں ۔ پھر بھی حمد و شکرانے کے مقدس گیت درختوں کے پُر عزم لبوں سے جاری ہیں ۔ کب
کوئی شجر خزاں میں چھاؤں کے خلق کو پسِ پشت ڈالتا ہے ۔ کب بہار بےوضو پاتی ہے سرما
کی اُوس میں غسلِ صحت کرنے والے اَشجار کو ۔ اور کیا گلوں نے انفاقِ مہک و رنگ میں
کبھی کمی کی ہے ۔ کب تحلیل ہوکر درخت کی جڑوں میں مسکُراتے بیج نے یقینِ بہارِ نو
کا دامن چھوڑا ہے
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
Rationality for Pakistan: موسم بہار تو اس تگ و دو میں گزر گیا کہ کیا تم ہو ۔...
Rationality for Pakistan: موسم بہار تو اس تگ و دو میں گزر گیا کہ کیا تم ہو ۔... : موسم بہار تو اس تگ و دو میں گزر گیا کہ کیا تم ہو ۔ تم کہاں...
-
موسم بہار تو اس تگ و دو میں گزر گیا کہ کیا تم ہو ۔ تم کہاں ہو۔ تم کیسے ہو۔ اور تمھاری ذات پر اور بات پر یقین کیسے ہو۔ موسم گرما میں انتھک ...
-
خزاں میں سوکھے پتے آنسوؤ ں کےمانند رخسارِ شجر سے ٹپک رہے ہیں ۔ پھر بھی حمد و شکرانے کے مقدس گیت درختوں کے پُر عزم لبوں سے جاری ہیں ۔ کب...
-
میری باطن میں جہاں تم نے اپنے معبد کے لیے جگہ چھوڑی تھی ۔ وہاں نہ میرا کبھی گزر ہوا نہ تم نے مجھے وہاں تک رسائی دی۔ اب تمھارے پیامبر م...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں