آج اگرقرب میّسر ہو تو ایک انتہائی جراٗت مندانہ
سرگوشی میں کہوں تم سے ، کہ جو تم کہو کہ
عبادت گاہوں کے صحن سے گرد جھاڑا کروں ۔ عقیدت مندوں کے تزکئیے میں جو پرانے پھول
مرجھائے ہوئے گرتے ہیں اُنھیں پرانے مقدس اوراق کی طرح اُونچی جگہ رکھا کروں ۔ مانگی ہوئی دعاؤں کو
مرتب کرکے سندیسوں پہ تمھارا نام پتہ درج کروں قاصد ہوجاؤں
توسنو ! تمھارے قرب کے اِس موسم کی حسرت میں اَشک بار رہتا ہوں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں