میری باطن میں جہاں تم نے اپنے معبد کے لیے جگہ چھوڑی تھی ۔ وہاں نہ میرا کبھی گزر ہوا نہ تم نے مجھے وہاں تک رسائی
دی۔ اب تمھارے پیامبر میرے پاس یہ سندیس لائے ہیں کہ وہاں طرح طرح کی آلائشیں جمع ہیں
اور معبد نہیں بن سکتا۔ میں آس کے اِس ویران برآمدے میں تنہا حیران و پریشان بیٹھا ہوں ۔ عمر کی ناؤ بد لحاظ بحرِ وقت میں بہتی جاتی ہے۔ موت کے گھڑ سوار
میرے چہار جانب سے زناٹے بھرتے گزرتے ہیں ۔ اب تم ہی کہو کیا اِس دل نیک نیت کو
رسائی دو گے یا خود اپنے شاہی دستے کے ہمراہ اِذنِ تزکیہ دینے آؤگے ۔ میرے معبود مجھے
میری ملّی ، وراثتی اور معاشرتی آلائیشوں سے پاک کردو۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
Rationality for Pakistan: موسم بہار تو اس تگ و دو میں گزر گیا کہ کیا تم ہو ۔...
Rationality for Pakistan: موسم بہار تو اس تگ و دو میں گزر گیا کہ کیا تم ہو ۔... : موسم بہار تو اس تگ و دو میں گزر گیا کہ کیا تم ہو ۔ تم کہاں...
-
موسم بہار تو اس تگ و دو میں گزر گیا کہ کیا تم ہو ۔ تم کہاں ہو۔ تم کیسے ہو۔ اور تمھاری ذات پر اور بات پر یقین کیسے ہو۔ موسم گرما میں انتھک ...
-
خزاں میں سوکھے پتے آنسوؤ ں کےمانند رخسارِ شجر سے ٹپک رہے ہیں ۔ پھر بھی حمد و شکرانے کے مقدس گیت درختوں کے پُر عزم لبوں سے جاری ہیں ۔ کب...
-
میری باطن میں جہاں تم نے اپنے معبد کے لیے جگہ چھوڑی تھی ۔ وہاں نہ میرا کبھی گزر ہوا نہ تم نے مجھے وہاں تک رسائی دی۔ اب تمھارے پیامبر م...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں