پیر، 13 مئی، 2019

میری باطن میں جہاں تم نے اپنے  معبد کے لیے جگہ چھوڑی تھی ۔ وہاں  نہ میرا کبھی گزر ہوا نہ تم نے مجھے وہاں تک رسائی دی۔ اب تمھارے پیامبر میرے پاس یہ سندیس لائے ہیں کہ وہاں  طرح طرح کی آلائشیں  جمع ہیں  اور معبد نہیں بن سکتا۔ میں آس کے اِس ویران برآمدے میں تنہا حیران و پریشان  بیٹھا ہوں ۔ عمر کی ناؤ بد لحاظ  بحرِ وقت میں بہتی جاتی ہے۔ موت کے گھڑ سوار میرے چہار جانب سے زناٹے بھرتے گزرتے ہیں ۔ اب تم ہی کہو کیا اِس دل نیک نیت کو رسائی دو گے یا   خود اپنے شاہی دستے کے ہمراہ   اِذنِ تزکیہ دینے آؤگے ۔ میرے معبود  مجھے  میری  ملّی ، وراثتی اور  معاشرتی آلائیشوں سے پاک کردو۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Rationality for Pakistan: موسم بہار تو اس تگ و دو میں گزر گیا کہ کیا تم ہو ۔...

Rationality for Pakistan: موسم بہار تو اس تگ و دو میں گزر گیا کہ کیا تم ہو ۔... : موسم بہار تو اس تگ و دو میں گزر گیا کہ کیا تم ہو ۔ تم کہاں...